دربار عام
قسم کلام: اسم ظرف مکان
معنی
١ - وہ دربار جہاں پر خاص و عام کو آنے کی اجازت ہو۔ "مغفور نے محل سے برآمد ہو کر دربارِ عام کیا۔" ( ١٨٩٠ء، فسانہ دلفریب، ٨٣ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'دربار' کے بعد کسرۂ صفت لگا کر عربی زبان سے ماخوذ اسم 'عام' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٨٣٢ء سے "دیوان رند" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - وہ دربار جہاں پر خاص و عام کو آنے کی اجازت ہو۔ "مغفور نے محل سے برآمد ہو کر دربارِ عام کیا۔" ( ١٨٩٠ء، فسانہ دلفریب، ٨٣ )
جنس: مذکر